Al-Qalam 68:48
Verse 48 of 52
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ ۘ اِذْ نَادٰی وَهُوَ مَكْظُوْمٌ ۟ؕ
ترجمہ
پس اپنے ربّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونسؑ)کی طرح نہ ہو جاوٴ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہو۱ تھا۔
English translation
So bear with patience until the Judgement of your Lord comes, and do not belike the man in the fish (i.e., Jonah) who called out, choking with grief:
تفہیم القرآن — حواشی
- 31
یعنی وہ وقت ابھی دور ہے جب اللہ تعالیٰ تمہاری فتح و نصرت اور تمہارے اِن مخالفین کی شکست کا فیصلہ فرمادے گا۔ اُس وقت کے آنے تک جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی اس دین کی تبلیغ میں پیش آئیں انہں صبر کے ساتھ براداشت کرتے چلے جاؤ۔
- 32
یعنی یونس علیہ السلام کی طرح بے صبری سے کام نہ لوجو اپنی بے صبری کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ پہنچا دیے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا فیصلہ آنے تک صبر کی تلقین کرنے کے بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ یونس علیہ السلام کی طرح نہ ہو جاؤ، خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اللہ کا فیصلہ آنے سے پہلے بے صبری سے کوئی کام کیا تھا جس کی بنا پر وہ عتاب کے مستحق ہو گئے تھے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،جلد دوم، یونس، آیت98،حاشیہ99۔جلدسو۔،الانبیاء، آیات87۔88۔ حواشی 82 تا 85 ۔ جلد چہارم ، الصّافات، آیات139تا 148، حواشی78 تا 85)۔
- 33
سورہ انبیاء میں اس کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ مچھلی کے پیٹ اور سمندر کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے پکارا تھا لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،"کوئی خدا نہیں تیری پاک ذات کے سوا، میں واقعی خطا وار ہوں"۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد سن لی اور ان کو غم سے نجات دی(آیات87۔88)۔
