Al-Qalam 68:17
Verse 17 of 52
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَ ۟ۙ
ترجمہ
ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے
English translation
We have put them [i.e., the Makkans] to test even as We put to test the owners of the orchard when they vowed that they would gather the fruit of their orchard in the morning,
تفہیم القرآن — حواشی
- 12
چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ہے۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابدتک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔
