Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mulk 67:8

Verse 8 of 30

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ ۟

ترجمہ

شِدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے”کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟“

English translation

as though it will burst with rage. Every time a multitude is cast into it, its keepers will ask them: “Did no warner come to you?”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 14

    اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہوگی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر دار کرنے والا آیا تھا یا نہیں، بلکہ اس سے مقصود اُن کو اِ س بات کا قائل کرنا ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر اُن کے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس لیے وہ خود اُن کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بے خبر نہیں رکھا تھا، اُن کے پاس انبیاء بھیجے تھے، اُن کو بتا دیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ ِ راست کونسی ہے، اور ان کو متنبہ کر دیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اِسی جہنم کا ایندھن بننا ہوگا جس میں اب وہ جھونکے گئے ہیں، مگر انہوں نے انبیاء کی بات نہ مانی، لہٰذا اب جو سزااُنہیں دی جا رہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں۔           یہ بات قرآن مجید میں بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امتحان کے لیے دنیا میں انسان کو بھیجا ہے وہ اِس طرح نہیں لیا جا رہا ہے کہ اُسے بالکل بے خبر رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہو کہ وہ خود راہِ راست پاتا ہے یا نہیں، بلکہ اُسے راہ ِ راست بتانے کا جو معقول ترین انتظام ممکن تھا وہ اللہ نے پوُری طرح کر دیا ہے، اورہوہ یہی انتظام ہے کہ انبیاء بھیجے گئے ہیں اور کتابیں نازل کی گئی ہیں۔ اب انسان کا سارا امتحان اِس امر میں ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام اور اُن کی لائی ہوئی کتابوں کو مان کر سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے یا ان سے مُنہ مُوڑ کر خود اپنی خواہشات اور تخیّلات کے پیچھے چلتا ہے۔ اس طرح نبوت در حقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ حُجّت ہے جو اس نے انسان پر قائم کر دی ہے ، اور اسی کے ماننے یا نہ ماننے پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ انبیاء کے آنے کے بعد کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ ہم حقیقت سے آگاہ نہ تھے، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہم کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال دیا گیا، اور اب ہمیں بے قصور سزا دی جا رہی ہے ۔ اس مضمون کو اتنی بار اتنے مختلف طریقوں سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات  ملاحظہ ہوں: تفہیم القرآن ، جلد اول، البقرہ، آیت213، حاشیہ23۰۔ النساء،آیات41۔42، حاشیہ۶4۔آیت1۶5، حاشیہ 2۰8۔ الانعام، آیات13۰۔131، حواشی98 تا 1۰۰۔ جلد دوم، بنی اسرائیل، آیت15،حاشیہ17۔جلد سوم،طٰہٰ، آیت134۔ القصص، آیت47، حاشیہ۶۶۔ آیت59، حاشیہ 83۔  آیت۶5۔جلد چہارم، فاطر، آیت37۔ المومن، آیت5۰،حاشیہ۶۶۔

Al-Mulk 67:8 — Translation & Tafsir | Read Maududi