Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mulk 67:3

Verse 3 of 30

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ۟

ترجمہ

س نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟

English translation

Who created the seven heavens one upon another. You will see no incongruity in the Merciful One's creation. Turn your vision again, can you see any flaw?

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 6

    تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ، حاشیہ34۔جلد دوم،الرعد،حاشیہ2۔1 الحجر، حاشیہ 8۔جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5 ۔ المومن، حاشیہ 9۰۔

  2. 7

    اصل تَفاوُت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں ، عدم تناسُب ۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ اَنْمِل بے جُوڑ ہونا۔ پس اِس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بے تربیتی اور بے ربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اِس دنیا میں کو ئی چیز اَنْمِل بے جوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسُب پایا جاتا ہے۔

  3. 8

    ”اصل میں لفظ فُطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف ، رخنہ، پھٹا ہواہونا ، ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات کی بندش ایسی چُست ہے ، اور زمین کے ایک ذرّے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں نظم ِ کائنات کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کر لو، تمہیں اس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں مل سکتا(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم، تفسیر سورہ ق، حاشیہ8)۔

Al-Mulk 67:3 — Translation & Tafsir | Read Maududi