Al-Mulk 67:15
Verse 15 of 30
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ؕ وَاِلَیْهِ النُّشُوْرُ ۟
ترجمہ
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔
English translation
He it is Who made the earth subservient to you. So traverse in its tracks and partake of the sustenance He has provided. To Him will you be resurrected.
تفہیم القرآن — حواشی
- 23
یعنی یہ زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی ہے اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہوگیا ہے ، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اِس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زمدگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کُرہ ایسا پُرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خو انِ نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بے حد و حساب سرو سامان موجود ہے ۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اِس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کر دینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں ۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل،حواشی73۔74۔81۔ جلد چہارم، یٰس،حواشی29۔32۔المومن، حواشی9۰۔91۔ الزُّخْرُف، حاشیہ7۔ الجاثیہ، حاشیہ7۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ18)۔
- 24
یعنی اِ س زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اِ س بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔
