Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mulk 67:10

Verse 10 of 30

وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۟

ترجمہ

اور وہ کہیں گے  ”کاش ہم سُنتے اور سمجھتے تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے۔“

English translation

They will say: 'If we had only listened and understood, we would not be among the inmates of the Blazing Fire.'”

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 16

    یعنی ہم نے طالبِ حق بن کر انبیاء کی بات کو توجہ سے سنا ہوتا، یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہاں سننے کو سمجھنے پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم کو توجہ سے سننا(یا اگر وہ لکھی ہوئی شکل میں ہو تو طالبِ حق بن کر اُسے پڑھنا) ہدایت پانے کے لیے شرط اول ہے۔ اُس پر غور کرکے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کا مرتبہ اس کے بعد آتا ہے ۔ نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل سے بطورِ خود کام لے کر انسان براہِ راست حق تک نہیں پہنچ سکتا۔

Al-Mulk 67:10 — Translation & Tafsir | Read Maududi