At-Tahrim 66:7
Verse 7 of 12
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟۠
ترجمہ
(اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔
English translation
(It will then be said): “Unbelievers, make no excuses today. You are being recompensed for nothing else but your deeds.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 18
اِن دونوں آیتوں کا اندازِ بیان اپنے اندر مسلمانوں کے لیے سخت تنبیہ لیے ہوئے ہے ۔ پہلی آیت میں مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اِس خوفناک عذاب سے بچا و ٔ ۔ اور دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جہنّم میں عذاب دیتے وقت کافروں سے یہ کہا جائے گا۔ اِس سے خود بخود یہ مضمون مترشح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں وہ طرزِ عمل اختیار کرنے سے بچنا چاہیے جس کی بدولت آخرت میں ان کا انجام کافروں کے ساتھ ہو۔
