At-Tahrim 66:12
Verse 12 of 12
وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ ۟۠
ترجمہ
اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے رُوح پھُونک دی، اور اُس نے اپنے ربّ کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی۔
English translation
Allah has also set forth the parable of Mary, the daughter of Imran, who guarded her chastity, and into whom We breathed of Our Spirit, and who testified to the words of her Lord and His Books. She was among the obedient.
تفہیم القرآن — حواشی
- 26
ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کے والد ہی کا نام عمران ہو، یا ان کو عمران کی بیٹی اس لیے کہا گیا ہو کہ وہ آلِ عمران سے تھیں۔
- 27
یہ یہودیوں کے اِس الزام کی تردید ہے کہ ان کے بطن سے حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی پیدائش معاذ اللہ کسی گناہ کا نتیجہ تھی۔ سورہ ٔ نساء، آیت 15۶ میں اِن ظالموں کے اِسی الزام کو بہتانِ عظیم قرار دیا گیا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، سورۃ النساء، حاشیہ 19۰)۔
- 28
یعنی بغیر اس کے کہ ان کا کسی مرد سے تعلق ہوتا ، اُن کے رحم میں اپنی طرف سے ایک جان ڈال دی ۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، النساء، حواشی 213-212۔ جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 89)۔
- 29
جس مقصد کے لیے اِن تین قسم کی عورتوں کو مثال میں پیش کیا گیا ہے اس کی تشریح ہم اِس سُورہ کے دیباچے میں کر چکے ہیں، اس لیے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
