Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Munafiqun 63:4

Verse 4 of 11

وَاِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ؕ وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ؗ اَنّٰی یُؤْفَكُوْنَ ۟

ترجمہ

اِنہیں دیکھو تو اِن کے جُثّے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سُنتے رہ جاؤ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ ہر روز کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکّے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر اُلٹے پِھر ائے جا رہے ہیں۔

English translation

When you look at them, their persons are pleasing, and when they speak, you pay heed to what they say. But in truth they are (merely) beams of timber propped-up (against a wall). They consider every shout they hear to be directed against them. They are your utter enemies; guard against them. May Allah do away with them! How are they being turned away (from the Truth)?

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 5

    حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا، تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔اور یہی شان اس کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ یہ سب مدینہ کے رئیس لوگ تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں آتے تو دیواروں سے تکیے لگا کر بیٹھتے اور بڑی لچھے دار باتیں کرتے۔ ان کے جُثّے بشرے کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر  کوئی یہ گمان تک نہ کر سکتا تھا کہ بستی کے یہ معززین اپنے کردار کے لحاظ سے اتنے ذلیل ہوں گے۔

  2. 6

    ۔ یعنی یہ جو دیواروں کے ساتھ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، یہ انسان نہیں ہیں بلکہ لکڑی کے کندے ہیں۔ ان کو لکڑی سے تشبیہ دے کر یہ بتایا گیا  کہ یہ اخلاق کی روح سے خالی ہیں جو اصل جو ہر انسانیت ہے۔ پھر انہیں دیوار سے لگے ہوئے کندوں سے تشبیہ دے کر یہ بھی بتا دیا گیا کہ یہ بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب کہ وہ کسی چھت میں ، یا کسی دروازے میں یا کسی فرنیچر میں لگ کر استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں  جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ بھی نہیں دیتی۔

  3. 7

    اس مختصر سے فقرے میں ان کے مجرم ضمیر کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ چونکہ وہ اپنے دلوں میں خوب جانتے تھے کہ وہ ایمان کے ظاہر پردے کی آڑ میں منافقت کا کیا کھیل کھیل رہے ہیں ، اس لیے انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کب ان کے جرائم کا راز فاش ہو، یا ان کی حرکتوں پر اہل ایمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور ان کی خبر لے ڈالی جائے۔ بستی میں کسی طرف سے بھی کوئی زور کی آواز آتی یا کہیں کوئی شور بلند ہوتا تھا تو وہ سہم جاتے اور یہ خیال کرتے تھے کہ آ گئی ہماری شامت۔

  4. 8

    دوسرے الفاظ میں کھلے دشمنوں کی بہ نسبت یہ چھپے ہوئے دشمن زیادہ خطرناک ہیں۔

  5. 9

    یعنی ان کے ظاہر سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ہر وقت خیال رکھو کہ یہ کسی وقت بھی دغا دے سکتے ہیں۔

  6. 10

    یہ بد دعا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں اس فیصلے کا اعلان ہے کہ وہ اس کی مار کے مستحق ہو چکے ہیں ، ان پر اس کی مار پڑ کر رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے لُغوی معنی میں استعمال نہ فرمائے ہوں بلکہ عربی محاورے کے مطابق لعنت اور پھٹکار اور مصمت کے لیے استعمال کیے ہوں ، جیسے اردو میں ہم کسی کی برائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ستیاناس اس کا، کیسا خبیث آدمی ہے۔ اس لفظ ستیاناس سے مقصود ا س کی خیانت کی شدت ظاہر کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس کے حق میں بد دعا کرنا۔

  7. 11

    یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ایمان سے نفاق کی طرف الٹا پھرانے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس اوندھی چال کا کوئی ایک محرک نہیں ہے بلکہ بہت سے محرکات اس میں کار فرما ہیں۔ شیطان ہے۔ برے دوست ہیں۔ ان کے اپنے نفس کی اغراض ہیں۔ کسی کی بیوی اس کی محرک ہے۔ کسی کے بچے اس کے محرک ہیں۔ کسی کی براری کے اشرار اس کے محرک ہیں۔ کسی کو حسد اور بغض اور تکبر نے اس راہ پر ہانک دیا ہے۔

Al-Munafiqun 63:4 — Translation & Tafsir | Read Maududi