Al-An'am 6:19
Verse 19 of 165
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ؕ قُلِ اللّٰهُ ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ ۫ وَاُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ ؕ اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰی ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ۟ۘ
ترجمہ
ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟۔۔۔۔ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ، اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبّہ کردُوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دُوسرے خدا بھی ہیں؟ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا۔ کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو
English translation
Ask them: 'Whose testimony is the greatest?' Say: 'Allah is the witness between me and you; and this Qur'an was revealed to me that I should warn you thereby and also whomsoever it may reach.' Do you indeed testify that there are other gods with Allah? Say: 'I shall never testify such a thing.' Say: 'He is the One God and I am altogether averse to all that you associate with Him in His divinity.'
تفہیم القرآن — حواشی
- 11
یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں۔
- 12
کسی چیز کی شہادت دینے کے لیے محض قیاس و گمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے علم ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر آدمی یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ ایسا ہے ۔ پس سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ اس جہانِ ہست و بُود میں خدا کے سوا اَور بھی کوئی کار فرما حاکمِ ذی اختیار ہے جو بندگی و پرستش کا مستحق ہو؟
- 13
یعنی اگر تم علم کے بغیر محض جھُوٹی شہادت دینا چاہتے ہو تو دو، میں تو ایسی شہادت نہیں دے سکتا۔
