Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-An'am 6:138

Verse 138 of 165

وَقَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَاَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۟

ترجمہ

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں نہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔ پھر کچھ جانور رہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراکیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افتراپردازیوں کا بدلہ دے گا

English translation

They say: 'These animals and these crops are sacrosanct: none may eat of them save those whom we will' - imposing interdictions of their own contriving. And they declare that it is forbidden to burden the backs of certain cattle, and these are the cattle over which they do not pronounce the name of Allah. All these are false fabrications against Allah, and He will soon requite them for all that they fabricate.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 111

    اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصُوص ہیں۔ اُس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصّل ضابطہ تھا جس کی رُوسے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصُوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ سب کچھ ان خود سر اور باغی بندوں نے اپنے اختیار سے خود ہی تصنیف کر لیا ہے۔

  2. 112

    روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے  ہوتے تھے جن پر اخدا کا نام لینا جائز نہ  سمجھا جاتا تھا۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا ، کیونکہ حج کے لیے   لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ  کہنا پڑتا تھا ۔ اسی طرح ان کا دودھ دوہتے وقت، یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں ، یا ان کو ذبح کرتے ہوئے ، یا ان کو کھانے کے وقت اہتمام کیا جاتا تھا کہ خدا کا نام زبان پر نہ آئے۔

  3. 113

    یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انھیں خدا نے مقرر کیا ہے ، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

Al-An'am 6:138 — Translation & Tafsir | Read Maududi