Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-An'am 6:122

Verse 122 of 165

اَوَمَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟

ترجمہ

کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشیاور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنادیے گئے ہیں،

English translation

He who was dead and whom We raised to life, and We set a light for him to walk among men - is he like the one steeped in darkness out of which he does not come out?. Thus have their own doings been made to seem fair to the unbelievers.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 88

    یہاں موت سے مُراد جہالت و بے شعوری کی حالت ہے ، اور زندگی سے مراد علم و ادراک اور حقیقت شناسی کی حالت ۔ جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہِ راست کیا ہے وہ طبیعیات کے نقطۂ نظر سے چاہے ذی  حیات ہو مگر حقیقت  کے اعتبار سے اس کو انسانیت کی زندگی میسّر نہیں ہے۔ وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے مگر زندہ انسان نہیں۔ زندہ انسان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جسے حق اور باطل، نیکی اور بدی ، راستی اور ناراستی کا شعور حاصل ہے۔

  2. 89

    یعنی تم کس طرح یہ توقع کر سکتے ہو کہ جس انسان کو انسانیت کا شعور نصیب ہو چکا ہے اور جو علم کی روشنی  میں ٹیڑھے راستوں  کے درمیان حق کی سیدھی راہ کو صاف دیکھ رہا ہے وہ اُن بے شعور لوگوں کی طرح دنیا میں زندگی بسر کرے گا جو نادانی و جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

  3. 90

    یعنی جن لوگوں کے سامنے روشنی پیش کی جائے اور وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیں ، جنھیں راہِ راست کی طرف دعوت دی جائے اور وہ اپنے ٹیڑھے راستوں ہی پر چلتے رہنے کو ترجیح دیں، ان کے لیے اللہ کا قانون یہی ہے کہ پھر انھیں تاریکی ہی اچھی معلوم ہونے لگتی ہے۔ وہ اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر چلنا اور ٹھوکریں کھا کھا کر گِرنا ہی پسند کرتے ہیں۔ ان کو جھاڑیاں ہی باغ اور کانٹے ہی پھُول نظر آتے ہیں۔ انھیں ہر بدکاری میں مزا آتا ہے ، ہر حماقت  کو وہ تحقیق سمجھتے ہیں ، اور ہر فساد  انگیز تجربہ کے بعد اُس سے بڑھ کر دُوسرے فساد انگیز تجربے کے لیے وہ اِس اُمّید پر تیار ہو جاتے ہیں کہ پہلے اتفاق سے دَہکتے ہوئے انگارے پر ہاتھ پڑ گیا تھا تو اب کے لعل بدخشاں ہاتھ آجائے گا۔

Al-An'am 6:122 — Translation & Tafsir | Read Maududi