Al-Hadid 57:8
Verse 8 of 29
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۚ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟
ترجمہ
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتےحالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو
English translation
How is it that you do not believe in Allah when the Messenger calls you to believe in your Lord and although he has taken a covenant from you, if indeed you are believers?
تفہیم القرآن — حواشی
- 11
یعنی تم یہ غیر ایمانی روش اس حالت میں اختیار کر رہے ہو کہ اللہ کا رسولؐ خود تمہارے درمیان موجود ہے اور دعوت ایمانی تمہیں کسی دور دراز واسطے سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ کے رسول کی زبان سے پہنچ رہی ہے ۔
- 12
بعض مفسرین نے اس عہد سے مراد اللہ کی بندگی کا وہ عہد لیا ہے جو ابتدائے آفرینش میں آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کر لیا گیا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ عہد لیا ہے جو ہر انسان کی فطرت اور اس کی فطری عقل میں اللہ کی بندگی کے لیے موجود ہے ۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو وہ شعوری عہد ہے جو ہر مسلمان ایمان لا کر اپنے رب سے باندھتا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ اس عہد کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے :۔ وَاذکُرُوْانِعْمَۃَاللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْوَا ثَقَکُمْ بِہٖاِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُواللہَ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیْم؍ٌ بَذاتِ الصُّدُورِ o (المائدہ۔ 7) یاد رکھو اس نعمت کو جو اللہ نے تم کو عطا کی ہے اور اس عہد و پیمان کو جو اللہ نے تم سے لیا ہے ، جبکہ تم نے کہا ’’ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ’’ اور اللہ سے ڈروِ اللہ دلوں کا حال جانتا ہے ۔ حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ: بَا یَعْنَا رَسُوْل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علی السمع و الطا عۃ فی النشاط والکسل و علی النفقۃ فی العسر و الیسُر و علی الامر بالمعروف و النھی عن المنکر و علی ان نقول فی اللہ تعالیٰ و لا نخاف لَوْمَۃَ لَا ئمٍ (مسند احمد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ ہم چستی اور سستی، ہر حال میں سمع و طاعت پر قائم رہیں گے ، خوشحالی اور تنگ حالی، دونوں حالتوں میں راہ خدا پر خرچ کریں گے ، نیکی کا حکم سین گے اور بدی سے منع کریں گے ، اللہ کی خاطر حق بات کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔
