Al-Waqi'ah 56:73
Verse 73 of 96
نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ۟ۚ
ترجمہ
ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیےسامان ِ زیست بنا یا ہے
English translation
We made it a reminder and a provision for the needy.
تفہیم القرآن — حواشی
- 33
اس آگ کو یاد دہانی کا ذریعہ بنانے کا طلب یہ ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو ہر وقت روشن ہو کر انسان کو اس بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ اگر آگ نہ ہوتی تو انسان کی زندگی حیوان کی زندگی سے مختلف نہ ہو سکتی۔ آگ ہی سے انسان نے حیوانات کی طرح کچی غذائیں کھانے کے بجائے ان کو پکا کر کھانا شروع کیا اور پھر اس کے لیے صنعت و ایجاد کے نئے نئے دروازے کھلتے چلے گئے۔ ظاہر ہے کہ اگر خدا وہ ذرائع پیدا نہ کرتا جن سے آگ جلائی جا سکے، اور وہ آتش پذیر مادے پیدا نہ کرتا جو آگ سے جل سکیں، تو انسان کی ایجادی صلاحیتوں کا قفل ہی نہ کھلتا۔ مگر انسان یہ بات فراموش کر گیا ہے کہ اس کا خالق کوئی پروردگار حکیم ہے جس نے اسے ایک طرف انسانی قابلیتیں دے کر پیدا کیا تو دوسری طرف زمین میں وہ سرو سامان بھی پیدا کر دیا جس سے اس کی یہ قابلیتیں رو بعمل آ سکیں۔ وہ اگر غفلت میں مد ہوش نہ ہو تو تنہا ایک آگ ہی اسے یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ کس کے احسانات اور کس کی نعمتیں ہیں جن سے وہ دنیا میں متمتع ہو رہا ہے۔
- 34
اصل میں لفظ مُقْوِیْن استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے مختلف معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ بعض اسے صحرا میں اترے ہوئے مسافروں کے معنی میں لیتے ہیں۔ بعض اس کے معنی بھوکے آدمی کے لیتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خواہ وہ کھانا پکانے کا فائدہ ہو یا روشنی کا یا تپش کا۔
