Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Adh-Dhariyat 51:16

Verse 16 of 60

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَ ۟ؕ

ترجمہ

جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے۔ وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے

English translation

joyously receiving what their Lord will have granted them. Verily they did good works before (the coming of this Day):

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 14

    اگر چہ اصل الفاظ ہیں اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰہُمْ رَبُّھُمْ، اور ان کا لفظی ترجمہ  صرف یہ ہے کہ ’’ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا ہو گا‘‘، لیکن موقع و محل کی مناسبت سے اس جگہ ’’لینے ‘‘ کا مطلب محض ’’لینا‘‘ نہیں بلکہ خوشی خوشی لینا ہے، جیسے کچھ لوگوں کو ایک سخی داتا مٹھیاں بھر بھر کر انعام دے رہا ہو اور وہ لپک لپک اسے لے رہے ہوں۔ جب کسی شخص کو اس کی پسند کی چیز دی جائے تو اس لینے میں آپ سے آپ بخوشی قبول کرنے کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ اَلَمْ یَعْلَموٓا اَنَّ اللہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عَبَا دِہٖ سَیَأ خُذُ الصَّدَقَاتِ۔ (التوبہ۔104)۔ ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے۔‘‘ اس جگہ صدقات لینے سے مراد محض ان کو وصول کرنا نہیں بلکہ پسندیدگی کے ساتھ ان کو قبول کرنا ہے۔

Adh-Dhariyat 51:16 — Translation & Tafsir | Read Maududi