Qaf 50:45
Verse 45 of 45
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ ۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ۟۠
ترجمہ
اے نبیؐ ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہےہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں، اور تمہارا کام ان سے جبراًبات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کےذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔
English translation
(O Prophet), We are well aware of what they say; and you are not required to force things on them. So exhort with the Qur'an all those who fear My warning.
تفہیم القرآن — حواشی
- 55
اس فقرے میں رسول اللہ صلی اللہ و سلم کے لیے تسلی بھی ہے اور کفار کے لیے دھمکی بھی۔ حضورؐ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر جو باتیں یہ لوگ بنا ہے ہیں ان کی قطعاً پروانہ کرو، ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ان نمٹنا ہمارا کام ہے۔ کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر جو فقرے تم کس رہے ہو وہ تمہیں بہت مہنگے پڑیں گے۔ ہم خود ایک ایک بات سن رہے ہیں اور اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔
- 56
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جبراً لوگوں سے اپنی بات منوانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ بلکہ در اصل یہ بات حضورؐ کو مخاطب کر کے کفار کو سنائی جا رہی ہے۔ گویا ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارا نبی تم پر جبار بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔اس کا کام زبردستی تمہیں مومن بنانا نہیں کہ تم نہ ماننا چاہو اور وہ جبراً تم سے منوائے۔ اس کی ذمہ داری تو بس اتنی ہے کہ جو متنبہ کرنے سے ہوش میں آ جائے اسے قرآن سنا کر حقیقت سمجھا دے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو نبی تم سے نہیں نمٹے گا بلکہ ہم تم سے نمٹیں گے۔
