Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Ma'idah 5:95

Verse 95 of 120

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ ؕ وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۟

ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے

English translation

Believers! Do not kill game while you are in the state of pilgrim sanctity. Whoever of you kills it wilfully there shall be a recompense, the like of what he has killed in cattle - as shall be judged by two men of equity among you - to be brought to the Ka'bah as an offering, or as an expiation the feeding of the needy, or its equivalent in fasting in order that he may taste the grievousness of his deed. Allah has pardoned whatever has passed; but Allah will exact a penalty from him who repeats it. Allah is All-Mighty. He is fully capable of exacting penalties.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 111

    شکار خواہ آدمی خود کرے، یا کسی دُوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے، دونوں باتیں حالتِ احرام میں منع ہیں۔ نیز اگر مُحرِم کی خاطر شکار مارا گیا ہو تب بھی اس کا کھانا مُحِرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے مُحِرم کو بھی تحفۃً کچھ دیدے تو اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس حکِم عام سے مُوذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ سانپ ، بچھّو، باؤ لا کتّا اور ایسے دُوسرے جانور  جو انسان کو نقصان پہنچانے والے ہیں، حالتِ احرام میں مارے جا سکتے ہیں۔

  2. 112

    اِن اُمُور کا فیصلہ بھی دو عادل آدمی ہی کریں گے کہ کس جانور کے مارنے پر آدمی کتنے مسکینوں کو کھانا کھِلائے، یا کتنے روزے رکھے۔

Al-Ma'idah 5:95 — Translation & Tafsir | Read Maududi