Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Ma'idah 5:32

Verse 32 of 120

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ؕ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ؗ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ۟

ترجمہ

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھاکہ ”جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی“۔ مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کُھلی کُھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں

English translation

Therefore We ordained for the Children of Israel that he who slays a soul unless it be (in punishment) for murder or for spreading mischief on earth shall be as if he had slain all mankind; and he who saves a life shall be as if he had given life to all mankind. And indeed again and again did Our Messengers come to them with clear directives; yet many of them continued to commit excesses on earth.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 53

    یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر اُنہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار  آدم کے اس ظالم بیٹے نے لیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ا ن کو قتلِ نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے  تھے۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمانِ خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے۔ البتہ تلمُود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے:” جس نے ارائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا، کتاب اللہ کی نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی“۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل کے مقدمات میں بنی اسرائیل کے قاضی گواہوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھےکہ”جو شخص ایک انسان کی جان ہلاک کرتا ہے وہ ایسی باز پرس کا مستحق ہے کہ گویا اس نے دُنیا بھر کے انسانوں کو قتل کیا ہے“۔

  2. 54

    مطلب یہ  ہے کہ دُنیا میں نوعِ انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دُوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دُوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے اور ہمدردی ِ نوع کے جذبہ سے خالی ہے ، لہٰذا وہ پُوری انسانیت کا دُشمن ہے، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افرادِ  انسانی میں پائی جائے تو پُوری نوع کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے۔

Al-Ma'idah 5:32 — Translation & Tafsir | Read Maududi