Al-Ma'idah 5:31
Verse 31 of 120
فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤی اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ۟
ترجمہ
پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چُھپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چُھپانے کی تدبیر نکال لیتا۔ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔
English translation
Thereupon Allah sent forth a raven who began to scratch the earth to show him how he might cover the corpse of his brother. So seeing he cried: 'Woe unto me! Was I unable even to be like this raven and find a way to cover the corpse of my brother? Then he became full of remorse at his doing.
تفہیم القرآن — حواشی
- 51
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کا ر بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبّہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجّہ کرنے کا موقع مل گیا توا س کی ندامت صرف اسی بات تک محدُود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوّے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبُوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے۔
- 52
یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اُس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی(ملاحظہ ہو اسی سُورۃ کا حاشیہ نمبر 3۰)۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے اِن اُمّیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور اُن پُرانے اہلِ کتاب کو رد کر دیا، سراسر اِس بُنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دُوسری طرف تقویٰ نہ تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رَد کر دیا گیا تھا، اپنے مردُود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اُس قصُور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے، ان پر ٹھیک اُسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدم ؑ کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا، اور اُسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتُوت انہیں اور زیادہ مردُود بنا دینے والے تھے۔
