Al-Ma'idah 5:26
Verse 26 of 120
قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۟۠
ترجمہ
اللہ نے جواب دیا ”اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰) سال تک ان پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاوٴ“۔
English translation
Allah said: 'This land will now be forbidden to them for forty years and they will remain wandering about on the earth. Do not grieve over the condition of these transgressing people.
تفہیم القرآن — حواشی
- 46
“اِس قصے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی ، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے 12 سرداروں کو فلسطین کا دَورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دَورہ کرکے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمعِ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دُودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں،”لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔۔۔۔ ہم اِس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قدآور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبّار ہیں اور جبّاروں کی نسل سے ہیں ، اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹِڈ ے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے“۔ یہ بیان سُن کر سارا مجمع چیخ اُٹھا کہ” اے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے! خداوند، کیوں ہم کواس مُلک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لُوٹ کا مال ٹھیریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر واپس چلے جائیں“۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آ ؤ ہم کسی کو کاپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لَوٹ چلیں۔ اِس پر اُن بارہ سرداروں میں سے ، جو فلسطین کے دَورے پر بھیجے گئے تھے ، دوسردار ، یُوشَع اور کالِب اُٹھے اور انہوں نے اِس بُزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا”چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں ، کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں“۔ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا” اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔۔۔ فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اِس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو“۔ مگر قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ” انہیں سنگسار کر دو“۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرما یا کہ اچھا اب یوشَع اور کالب کے سوااس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اُس سر زمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی، یہاں تک کہ جب ان میں سے 2۰ برس سے لے کر اُوپر کی عمر تک کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اُٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ چنانچہ اس فیصلہ ٔ خداوندی کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت ِ فاران سے شرق اُردن تک پہنچتے پہنچتے پُورے 38 برس لگ گئے ۔ اِس دَوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر سے مصر سے نکلے تھے۔ شرق اُردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا بھی انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد حضرت یُوشع بن نون کے عہدِ خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔
- 47
یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلۂ بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصُود ہے کہ موسیٰ کے زمانہ میں نافرمانی ، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی ، اب اس سے بہت زیادہ سزا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔
