Al-Ma'idah 5:14
Verse 14 of 120
وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤی اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ؕ وَسَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۟
ترجمہ
اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پُختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ”نصارٰی“ ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کردیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دُشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ نہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں
English translation
We also took a covenant from those who said: 'We are Christians'; but they forgot a good portion of the teaching they had been imparted with. Wherefore We aroused enmity and spite between them till the Day of Resurrection, and ultimately Allah will tell them what they had contrived.
تفہیم القرآن — حواشی
- 36
لوگوں کا یہ خیال غلط ہےکہ ”نصاریٰ“ کا لفظ”ناصرہ“ سے ماخوذ ہے جو مسیح علیہ السّلام کا وطن تھا۔ دراصل اس کا ماخذ ”نصرت“ ہے، اور اس کی بنا وہ قول ہے جو مسیح علیہ السّلام کے سوال مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہِ (خدا کی راہ میں کون لوگ میرے مددگار ہیں؟) کے جواب میں حواریوں نے کہا تھا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ (ہم اللہ کے کام میں مددگار ہیں)۔ عیسائی مصنّفین کو بالعمُوم محض ظاہری مشابہت دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں ناصر یہ (Nazarenes) کے نام سے جو ایک فرقہ پایا جاتا تھا ، اور جنہیں حقارت کے ساتھ ناصری اور ایبونی کہا جاتا تھا، انہی کے نام کو قرآن نے تمام عیسائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہاں قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ ہم”نصاریٰ“ اور یہ ظاہر ہے کہ عیسائیوں نے اپنا نام کبھی ناصری نہیں رکھا۔ (اس مسئلہ کی مزید تشریح کے لیے صفحہ نمبر 517 پرضمیمہ میں الگ نوٹ درج ہے)۔
