Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Ma'idah 5:112

Verse 112 of 120

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟

ترجمہ

(حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یادرہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسٰی ؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

English translation

Also recall when the disciples asked Jesus, son of Mary: 'Jesus, son of Mary, has your Lord the power to send down to us a repast from the heaven?' There- upon Jesus said: 'Fear Allah if you do indeed have faith.'

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 129

    چونکہ حواریوں کا ذکر آگیا تھا اس لیے سلسلہء کلام کو توڑ کر جملہء معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہِ راست جن  شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریکِ خدا  یا فرزندِ  خدا ہونے کا تصوّر نہ تھا ۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندۂ بے اختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ یہاں یہ سوال کی جا سکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے ، اس کے اندر اس  جملۂ معتر ضہ کا کونسا موقع ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملۂ معترضہ اُس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہو گی بلکہ اُس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے ۔ قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اُس سے سبق ملے اور وہ راہِ راست پر آئیں۔ لہٰذا اس گفتگو کے سلسلہ میں حواریوں کے اس واقعہ کا ذکر بطور ایک جملۂ معترضہ کے آنا  کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔

Al-Ma'idah 5:112 — Translation & Tafsir | Read Maududi