Al-Ahqaf 46:11
Verse 11 of 35
وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ ؕ وَاِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ ۟
ترجمہ
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔ چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔
English translation
The unbelievers say to the believers: If there was any good in this Book, others would not have beaten us to its acceptance.” But since they have not been guided to it, they will certainly say: “This is an old fabrication.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 15
یہ ان دلائل میں سے ایک ہے جو قریش کے سردار عوام الناس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف بہکا نے کیے لیے استعمال کر تے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ قرآن بر حق ہوتا اور محمد( صلی اللہ علیہ و سلم) ایک صحیح بات کی طرف دعوت دے رہے ہوتے تو قوم کے سردار اور شیو خ اور معز ز ین آگے بڑ ھ کر اس کو قبول کرتے۔ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہو کتا ہے کہ چند نا تجربہ کار لڑکے اور چند ادبی درجہ کے غلام تو ایک معقول بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑ ے لوگ، جو دانا اور جہاندیدہ ہیں، اور جن کی عقل و تدبیر پر آ ج تک قوم اعتماد کر تی رہی ہے، اس کو رد کر دیں۔ اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کو شش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں خرابی ہے، اسی لیے تو قوم کے اکابر اس کو نہیں مان رہے ہیں، لہذا تم لو گ بھی اس سے دور بھا گو۔
- 16
یعنی ان لوگوں نے اپنے آپ کو حق و باطل کا معیار قرار دے رکھا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ہدایت کو یہ قبول نہ کریں وہ ضرور ضلالت ہی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اسے ’’ نیا جھوٹ‘‘ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے، کیونکہ اس سے پہلے بھی انبیاء علیہم السلام یہی تعلیمات پیش کرتے رہے ہیں، اور تمام کتب آسمانی جو اہل کتاب کے پاس موجود ہیں، ان ہی عقائد اور ان ہی ہدایات سے بھری ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ اسے ’’پرانا جھوٹ‘‘ کہتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ سب لوگ بھی دانائی سے محروم تھے جو ہزاروں برس سے ان حقائق کو پیش کرتے اور مانتے چلے آ رہے ہیں، اور تمام دانائی صرف انکے حصے میں آ گئی ہے۔
