Al-Jathiyah 45:13
Verse 13 of 37
وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ۟
ترجمہ
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخّر کر دیا ہے، سب کچھ اپنے پاس سے۔۔۔۔ اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔
English translation
He has subjected to you all that is in the heavens and the earth, all being from Him. Verily there are Signs in this for those who reflect.
تفہیم القرآن — حواشی
- 15
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 488، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 35۔
- 16
اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا یہ عطیہ دنیا بادشاہوں کا سا عطیہ نہیں ہے جو رعیت سے حاصل کیا ہوا مال رعیت ہی میں سے کچھ لوگوں کو بخش دیتے ہیں، بلکہ کائنات کی ساری نعمتیں اللہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں اور اس نے اپنی طرف سے یہ انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ دوسرے یہ کہ نہ ان کی نعمتوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے میں کسی اور ہستی کا کوئی دخل، تنہا اللہ ہی ان کا خالق بھی ہے اور اسی نے اپنی طرف سے وہ انسان کو عطا کی ہیں۔
- 17
یعنی اس تسخیر میں اور ان چیزوں کو انسان کے لیے نافع بنانے میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ نشانیاں اس حقیقت کی طرف کھلا کھلا اشارہ کر رہی ہیں کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کائنات کی تمام اشیاء اور قوتوں کا خالق و مالک اور مدبر و منتظم ایک ہی خدا ہے جس نے ان کو ایک قانون کا تابع بنا رکھا ہے۔ اور وہی خدا انسان کو رب ہے جس نے اپنی قدرت اور حکمت اور رحمت سے ان تمام اشیاء اور وقتوں کو انسان کی زندگی،اس کی معیشت، اس کی آسائش، اس کی ترقی اور اس کی تہذیب و تمدن کے لیے ساز گار و مدد گار بنایا ہے۔ اور تنہا وہی خدا انسان کی عبودیت اور شکر گزاری اور نیاز مندی کا مستحق ہے نہ کہ کچھ دوسری ہستیاں جن کے نہ ان اشیاْ اور قوتوں کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے اور نافع بنانے میں کوئی دخل۔
