Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Ad-Dukhan 44:37

Verse 37 of 59

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ ۙ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ ؗ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۟

ترجمہ

یہ بہتر ہیں یا تُبع کی قوم اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مُجرم ہوگئے تھے۔

English translation

Are these better or the people of Tubba and those who went before them? We destroyed them for they were a criminal people.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 32

    تبع قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ، قیصر، فرعون وغیرہ القاب مختلف ممالک کے بادشاہوں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300  عیسیوی تک یہ حکمراں رہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورہ سبا، حاشیہ نمبر 37)

  2. 33

    یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ  یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ انسانی شاہد ہے زندگی کے اس نظریہ کو جس قوم نے بھی اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ  ہو کر رہی ہے۔ رہا یہ سوال یہ "یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور ا س سے پہلے کے لوگ"؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ تو اس خوش حالی و شوکت و حشمت کو پہنچ ہی نہیں سکے ہیں جو تبع کی قوم ، اور اس سے پہلے سبا اور قوم فرعون اور دوسری قوموں کو حاصل رہی ہے ۔ مگر یہ مادی خوشحالی اور دنیاوی شان شوکت اخلاقی زوال کے نتائج سے ان کو کب بچا سکتی تھی۔ یہ اپنی ذرا سی پونجی اور اپنے ذرائع و سائل کے بل بوتے پر بچ جائیں گے  (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم ، سورہ سباء، حواشی نمبر 25۔36)

Ad-Dukhan 44:37 — Translation & Tafsir | Read Maududi