Ad-Dukhan 44:18
Verse 18 of 59
اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۟ۙ
ترجمہ
اور اس نے کہا”اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسُول ہوں۔
English translation
(and said): “Deliver to me Allah's servants. I am a trustworthy Messenger to you,
تفہیم القرآن — حواشی
- 15
یہ بات ابتدا ہی میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں موسیٰ کے جو اقوال نقل کیے جا رہے ہیں وہ ایک وقت میں ایک ہی مسلسل تقریر کے اجزا نہیں ہیں، بلکہ سالہا سال کے دوران میں مختلف مواقع پر جو باتیں انہوں نے فرعون اور اس کے اہل دربار سے کہی تھیں ان کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا جا رہا ہے ۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، ص 63 تا 46 ۔ 301 تا 310 جلد سوم، ص 95 تا 108۔ 480 تا 498 ۔ 557 تا تا 560۔ 634 تا 639 ۔ جلد چہارم ، المومن، آیات 23 ت 46۔ الزخرف 46 تا 56 مع حواشی)
- 16
اصل میں اَدُّ وْ ا اِلَیَّ عِبَا دَ ا للہِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو اوپر ہم نے کیا ہے اور اس کے لحاظ سے یہ اس مطالبے کا ہم معنی ہے جو سورہ اَ عراف(آیت 105) ، سورہ طٰہٰ (47) اور الشعراء (17) میں گزر چکا ہے کہ ’’ نبی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دو‘‘ دوسری تر جمہ ، جو حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے، یہ ہے کہ ’’ اللہ کے بندو میرا حق ادا کرو‘‘ یعنی میری بات مانو ، مجھ پر ایمان لاؤ ، اور میری ہدایت کی پیروی کرو، یہ خدا کی طرف سے تمہارے اوپر میرا حق ہے۔ بعد کا یہ فقرہ کہ ’’ میں تمہارے لیے ایک مانت دار رسول ہوں ‘‘ اس دوسرے مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
- 17
یعنی بھروسے کے قابل رسول ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی بات ملا کر کہنے والا نہیں ہوں۔ نہ اپنی کسی ذاتی خواہش یا غرض کے لیے خود ایک حکم یا قانون گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کرنے والا ہوں ۔ مجھ پر تم یہ اعتماد کرسکتے ہو کہ جو کچھ میرے بھیجنے والے نے کہا ہے وہی بے کم و کاست تم تک پہنچاؤں گا ۔ (واضح رہے کہ یہ دو فقرے اس وقت کے ہیں جب حضرت موسیٰ نے سب سے پہلے اپنی دعوت پیش فرمائی تھی)۔
