Ash-Shura 42:45
Verse 45 of 53
وَتَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ ؕ وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَاَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ ۟
ترجمہ
اور تم دیکھوں گے کہ یہ جہنّم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلّت کے مارے جُھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن اَنکھیوں سے دیکھیں گے۔ اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلّقین کو خسارے میں ڈال دیا ہے۔ خبر دار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
English translation
You shall see them, as they are brought face to face with the chastisement, in a state of abject humiliation, looking with a furtive glance. But the believers will say: “Surely the true losers are they who lose themselves and their kindred on the Day of Resurrection.” Lo, the wrong-doers will be in an enduring torment.
تفہیم القرآن — حواشی
- 70
انسان کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر آ رہی ہے ، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ پھر اس سے رہا نہیں جاتا۔دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے۔ لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے۔ اس لیے بار بار ذرا سے آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔
