Ghafir 40:9
Verse 9 of 85
وَقِهِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۟۠
ترجمہ
اور بچا دے اُن کو برائیوں سے۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“
English translation
and guard them against all ills. He whom You guard against ills on that Day, to him You have surely been Most Merciful. That is the great triumph.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 12
’’ سیّئات‘‘ (برائیوں ) کا لفظ تین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تینوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک، غلط عقائد اور بگڑے ہوۓ اخلاق اور بُرے اعمال۔ دوسرے، گمراہی اور اعمال بد کا وبال۔ تیسرے آفات اور مصائب اور اذیتیں خواہ وہ اس دنیا کی ہوں، یا عالم برزخ کی، یا روز قیامت کی۔ فرشتوں کی دعا کا مقصود یہ ہے کہ ان کو ہر اس چیز سے بچا جو ان کے حق میں بُری ہو۔
- 13
روز قیامت کی بُرائیوں سے مراد میدان حشر کا ہَول، ساۓ اور ہر قسم کی آسائشوں سے محرومی، محاسبے کی سختی، تمام خلائق کے سامنے زندگی کے راز فاش ہونے کی رسوائی، اور دوسرے وہ تمام ذلتیں اور سختیاں ہیں جن سے وہاں مجرمین کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔
