Ghafir 40:78
Verse 78 of 85
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ ؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ ۟۠
ترجمہ
اے نبیؐ ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے۔ کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ اِذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا۔ پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے۔
English translation
Indeed We sent many Messengers before you: of them there are some whose account We have narrated to you and there are others whose account We have not narrated to you. It did not lie in any Messenger's power to bring any Sign except with Allah's leave. So when Allah's decree came, the matter was decided with justice, and those steeped in error courted utter loss, then and there.
تفہیم القرآن — حواشی
- 107
یہاں سے ایک اور موضوع شروع ہو رہا ہے۔ کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے تھے کہ ہم آپ کو اس وقت تک خدا کا رسول نہیں مان سکتے جب تک آپ ہمارا منہ مانگا معجزہ ہمیں نہ دکھا دیں۔ آگے کی آیات میں ان کی اسی بات کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (جس قسم کے معجزات کا وہ لوگ مطالبہ کرتے تھے ان کے چند نمونوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم،صفحات 327۔498۔ 642۔ جلد سوم، ص 445)۔
- 108
یعنی کسی نبی نے بھی کبھی ا پنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھایا ہے، اور نہ کوئی نبی خود معجزہ دکھانے پر قادر تھا۔ معجزہ تو جب بھی کسی نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوا ہے اس وقت ظاہر ہوا ہے جب اللہ نے یہ چاہا کہ اس کے ہاتھ سے کوئی معجزہ کسی منکر قوم کو دکھایا جاۓ۔ یہ کفار کے مطالبے کا پہلا جواب ہے۔
- 109
یعنی معجزہ کبھی کھیل کے طور پر نہیں دکھایا گیا ہے۔ وہ تو ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ اس کے ظاہر ہو جانے کے بعد جب کوئی قوم نہیں مانتے تو پھر اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ تم محض تماش بینی کے شوق میں معجزے کا مطالبہ کر رہے ہو، مگر تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح دراصل تم خود تقاضے کر کر کے اپنی شامت بلا رہے ہو۔ یہ کفار کے اس مطالبہ کا دوسرا جواب ہے، اور اس کی تفصیلات اس سے پہلے قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکی ہیں (ملاحظہ ہو جلد دوم، ص 498۔ 510۔626۔ جلد سوم، 148۔149۔445۔446۔498۔499)
