Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:97

Verse 97 of 176

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا ؕ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا ۟ۙ

ترجمہ

جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مُبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے

English translation

While taking the souls of those who were engaged in wronging themselves, the angels asked: 'In what circumstances were you?' They replied: 'We were too weak and helpless in the land.' The angels said: 'Was not the earth of Allah wide enough for you to emigrate in it?' For such men their refuge is Hell - an evil destination indeed;

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 129

    مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام قبول کرنے  کے بعد بھی ابھی تک بلا کسی مجبوری و معذوری کے اپنی کافر قوم ہی کے درمیان مقیم تھے اور نیم مسلمانہ اور نیم کافرانہ زندگی بسر کرنے پر راضی تھے، درآنحالیکہ ایک دارالاسلامہیا ہو چکا تھا جس کی طرف ہجرت کر کے اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرنا ان کے لیے ممکن ہو گیا تھا۔ یہی ان کا اپنے نفس پر ظلم تھا کیونکہ ان کو پوری اسلامی زندگی کے مقابلہ میں اس نیم کفر و نیم اسلام پر جس چیز نے قانع و مطمئن کر رکھا تھا وہ کوئی واقعی مجبوری نہ تھی، بلکہ محض اپنے نفس کے عیش اور اپنے خاندان ، اپنی جائیداد و املاک اور اپنے دنیوی مفاد کی محبت تھی جسے انہوں نے اپنے دین پر ترجیح دی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 11۶)

  2. 130

    یعنی جب ایک جگہ خدا کے باغیوں کا غلبہ تھا اور خدا کے قانون شرعی پر عمل کرنا ممکن نہ تھا تو وہاں رہنا کیا  ضرور تھا؟ کیوں نہ اس جگہ کو چھوڑ کر کسی اسی سرزمین کی طرف منتقل ہوگئے جہاں قانونِ الہٰی کی پیروی ممکن ہوتی؟

An-Nisa' 4:97 — Translation & Tafsir | Read Maududi