An-Nisa' 4:6
Verse 6 of 176
وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ ۚ وَلَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا ؕ وَمَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ ؕ وَكَفٰی بِاللّٰهِ حَسِیْبًا ۟
ترجمہ
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
English translation
Test the orphans until they reach the age of marriage, and then if you find them mature of mind hand over to them their property, and do not eat it up by either spending extravagantly or in haste, fearing that they would grow up (and claim it). If the guardian of the orphan is rich let him abstain entirely (from his ward's property); and if he is poor, let him partake of it in a fair measure. When you hand over their property to them let there be witnesses on their behalf. Allah is sufficient to take account (of your deeds).
تفہیم القرآن — حواشی
- 9
یعنی جب وہ سنِ بلوغ کے قریب پہنچ رہےہوں تو دیکھتے رہو کہ اُن کا عقلی نشونما کیسا ہے اور ان میں اپنے معاملات کو خود اپنی ذمّہ داری پر چلانے کی صلاحیت کس حد تک پیدا ہو رہی ہے۔
- 10
مال ان کے حوالہ کرنے کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں: ایک بلوغ، دوسرے رُشد، یعنی مال کے صحیح استعمال کی اہلیت۔ پہلی شرط کے متعلق تو فقہائے اُمّت میں اتفاق ہے۔ دُوسری شرط کے بارے میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ہے کہ اگر سنِّ بُلوغ کو پہنچنے پر یتیم میں رُشد نہ پایا جائے تو ولی یتیم کو زیادہ سے زیادہ سات سال اور انتظام کر نا چاہیے ۔ پھر خواہ رُشد پایا جائے یا نہ پایا جائے ، اس کا مال اس کے حوالہ کر دینا چاہیے۔ اور امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی رحمہم اللہ کے رائے یہ ہے کہ مال حوالہ کیے جانے کے لیے بہر حال رُشد کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ غالباً موخّر الذکر حضرات کی رائے کے مطابق یہ بات زیادہ قرینِ صواب ہو گی کہ اس معاملہ میں قاضیِ شرع سے رُجوع کیا جائے اور اگر قاضی پر ثابت ہو جائے کہ اس میں رُشد نہیں پایا جاتا تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے خود کوئی مناسب انتظام کر دے۔
- 11
یعنی اپنا حق الخدمت اس حد تک لے کہ ہر غیر جانبدار معقول آدمی اس کو مناسب تسلیم کرے۔ نیز یہ کہ جو کچھ بھی حق الخدمت وہ لے چوری چھُپے نہ لے بلکہ علّانیہ متعین کر کے لے اور اس کا حساب رکھے۔
