Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:51

Verse 51 of 176

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا ۟

ترجمہ

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے عِلم میں سے کچھ حصّہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبْت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔

English translation

Have you not seen those to whom a portion of the Book was given? They believe in baseless superstitions and taghut (false deities), and say about the unbelievers that they are better guided than those who believe.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 81

    جِبْت کے اصل معنی بے حقیقت، بے اصل اور بے فائدہ چیزکے ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت(جوتش)، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون اور مہُورت اور تمام دُوسری وہمی و خیالی باتوں کو” جبت “ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے النیاقۃ و الطرق والطیر من الجبت۔ یعنی جانوروں کی آوازوں سے فال لینا ، زمین پر جانوروں کے  نشاناتِ قدم سے شگون نکالنا اور فال گیری کے دُوسرے طریقے سب ”جِبت“ کا مفہُوم وہی ہے جسے ہم اُردو زبان میں اوہام کہتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی میں (Superstitions)  کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

  2. 82

    تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ بقرہ حاشیہ نمبر 28۶ و 288۔

  3. 83

    علماء یہود کی ہٹ دھرمی یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کو وہ مشرکینِ عرب کی بہ نسبت زیادہ گمراہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان سے تو یہ مشرکین ہی زیادہ  راہِ راست پر ہیں۔ حالانکہ وہ صریح طور پر دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف خالص توحید ہے جس میں شرک کا شائبہ تک نہیں اور دُوسری طرف صریح بُت پرستی ہے جس کی مذمت سے ساری بائیبل بھری پڑی ہے۔

An-Nisa' 4:51 — Translation & Tafsir | Read Maududi