An-Nisa' 4:46
Verse 46 of 176
مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَیًّا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ ؕ وَلَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ۟
ترجمہ
جو لوگ یہودی بن گئے ہیں اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیردیتے ہیں، اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَااور اِسمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا۔ حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا، اور اِسمَعْ اور اُنْظُرْنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پِھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
English translation
Among those who have become Jews there are some who alter the words from their context, and make a malicious play with their tongues and seek to revile the true faith. They say: 'We have heard and we disobey' (sami'na wa 'asayna), 'Do hear us, may you turn dumb' (isma' ghayr musma') and 'Hearken to us' (ra'ina). It would indeed have been better for them and more upright if they had said: 'We have heard and we obey' (sami'na wa ata'na) and: 'Do listen to us, and look at us (with kindness)' (wa isma' wa unzurna). But Allah has cursed them because of their disbelief. Scarcely do they believe.
تفہیم القرآن — حواشی
- 72
یہ نہیں فرمایا کہ ”یہُودی ہیں“ بلکہ یہ فرمایا کہ ”یہُودی بن گئے ہیں“۔ کیونکہ ابتداءً تو وہ بھی مسلمان ہی تھے، جس طرح ہر نبی کی اُمّت اصل میں مسلمان ہوتی ہے، مگر بعد میں وہ صرف یہودی بن کر رہ گئے۔
- 73
اس کے تین مطلب ہیں: ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردّو بدل کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اپنی تاویلات سے آیات کتاب کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے پیرووں کی صحبت میں آکر ان کی باتیں سُنتے ہیں اور واپس جا کر لوگوں کے سامنے غلط طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔ بات کچھ کہی جاتی ہے اور وہ اسے اپنی شرارت سے کچھ کا کچھ بنا کر لوگوں میں مشہور کرتے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جائے اور ان کے متعلق غلط فہمیاں پھیلا کر لوگوں کو اسلامی جماعت کی طرف آنے سے روکا جائے۔
- 74
یعنی جب انہیں خدا کے احکام سُنائے جاتے ہیں تو زور سے کہتے ہیں کہ سَمِعْنَا ( ہم نے سُن لیا) اور آہستہ کہتے ہیں عَصَیْنَا (ہم نے قبول نہیں کیا)۔ یا اَطَعْنَا (ہم نے قبول کیا) کا تلفظ اس انداز سے زبان کو لچکا دے کر کرتے ہیں کہ عَصَیْنَا بن جاتا ہے۔
- 75
یعنی دَورانِ گفتگو میں جب وہ کوئی بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں اِسْمَعْ (سُنیے) اور پھر ساتھ ہی غَیْرَ مُسْمَعٍ بھی کہتے ہیں جو ذو معنی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے محترم ہیں کہ آپ کو کوئی بات خلاف مرضی نہیں سُنائی جاسکتی۔ دُوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی سُنائے۔ ایک اور مطلب یہ ہے کہ خدا کرے تم بہرے ہو جا ِؤ۔
- 76
اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ بقرہ حاشیہ نمبر 1۰8۔
