Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:29

Verse 29 of 176

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۫ وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا ۟

ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے۔

English translation

Believers! Do not devour one another's possessions wrongfully; rather than that, let there be trading by mutual consent. You shall not kill yourselves. Surely Allah is ever Compassionate to you.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 50

    ”باطل طریقوں“ سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جو خلافِ حق ہوں اور شرعاً و اخلاقاً ناجائز ہوں۔ ”لین دین“ سے مراد یہ ہے کہ آپس میں مفاد و منافع  کا تبادلہ ہونا چاہیے جس طرح تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ  میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دُوسرے شخص کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ دیتا ہے ۔ ” آپس کی رضامندی“ سے مراد یہ ہے کہ لین دین  نہ تو کسی ناجائز دبا ؤ سے ہو اور نہ فریب و دغا سے۔ رشوت اور سُود میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے مگر درحقیقت جُوے میں حصّہ لینے والا ہر شخص اس غلط اُمید پر رضا مند ہوتا ہے کہ جیت اس کی ہوگی۔ ہارنے کے ارادے سے کوئی بھی راضی نہیں ہوتا ۔ جعل اور فریب کے کاروبار میں بھی بظاہر رضا مندی ہوتی ہے مگر اس غلط فہمی کی بنا پر ہوتی ہے کہ اندر جعل و فریب نہیں ہے۔ اگر فریقِ ثانی کو معلوم ہو کہ تم اس سے جعل یا فریب کر رہے ہو تو وہ ہر گز  اس پر راضی نہ ہو۔

  2. 51

    یہ فقرہ پچھلے فقرے کا تتمہ بھی ہو سکتا ہے اور خود ایک مستقل فقرہ بھی۔ اگر پچھلے فقرے کا تتمہ  سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دُوسروں کا مال ناجائز  طور پر کھانا خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ دنیا میں اس سے نظامِ تمدّن خراب ہوتا ہے  اور اس کے بُرے نتائج سے حرام خور آدمی خود بھی نہیں بچ سکتا۔ اور آخرت میں اس کی بدولت آدمی سخت سزا کا مستوجب بن جاتا ہے۔ اور اگر اسے مستقل فقرہ سمجھاجائے تو اس کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ ایک دُوسرے کو قتل نہ کرو۔ دوسرے یہ کہ خودکشی نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے جامع استعمال  کیے ہیں اور ترتیب ِ کلام ایسی رکھی ہے کہ اس سے یہ تینوں مفہُوم نکلتے ہیں اور تینوں حق ہیں۔

  3. 52

    یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا خیر خواہ ہے ، تمہاری بھلائی چاہتا ہے ، اور یہ اس کی مہربانی ہی ہے کہ وہ تم کو ایسے کاموں سے منع کررہا ہے جن میں تمہاری اپنی بربادی ہے۔

An-Nisa' 4:29 — Translation & Tafsir | Read Maududi