An-Nisa' 4:161
Verse 161 of 176
وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَاَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ؕ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ۟
ترجمہ
اور سُود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کےمال ناجائز طریقوں سے کھا تے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں،اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
English translation
and for their taking interest which had been prohibited to them, and for their consuming the wealth of others wrongfully. And for the un believers among them We have prepared a painful chastisement.
تفہیم القرآن — حواشی
- 200
توراۃ میں بالفاظ ِصریح یہ حکم موجود ہے کہ: ”اگر تُو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو، قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سُود لینا۔ اگر تُو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرو رکھ بھی لے تو سُورج کے ڈوبنے تک اس کو واپس کر دینا کیونکہ فقط وہی ایک اُس کا اوڑھنا ہے، اس کے جسم کا وہی لباس ہے، پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا۔ پس جب وہ فریاد کرے گا تو میں اُس کی سنوں گا کیونکہ میں مہربان ہوں“۔( خروج باب 22:27-25) اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر توراۃ میں سُود کی حُرمت وار د ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسی تورات کے ماننے والے یہودی آج دُنیا کے سب سے بڑے سُود خوار ہیں اور اپنی تنگ دلی و سنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں۔
- 201
غالباً یہ اُسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو آگے سُورۂ انعام آیت 14۶ میں آنے والی ہے۔ یعنی یہ کہ بنی اسرائیل پر تمام وہ جانور حرام کر دیے گئے جن کے ناخن ہوتے ہیں ، اور ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کر دی گئی۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ اشارہ اُن دُوسری پابندیوں اور سختیوں کی طرف بھی ہو جو یہودی فقہ میں پائی جاتی ہیں۔ کسی گروہ کے لیے دائرہ ٔ زندگی کی تنگ کر دیا جانا فی الواقع اس کے حق میں ایک طرح کی سزا ہی ہے۔( مفصّل بحث کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ انعام حاشیہ نمبر 122)
- 202
یعنی اس قوم کے جو لوگ ایمان و اطاعت سے منحرف اور بغاوت و انکار کی روش پر قائم ہیں ان کے لیے خدا کی طرف سے دردناک سزا تیار ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں جو عبرتناک سزا ان کو ملی اور مل رہی ہے وہ کبھی کسی دُوسری قوم کو نہیں ملی۔ دو ہزار برس ہو چکے ہیں کہ زمین پر کہیں ان کو عزّت کا ٹھکانا میسّر نہیں۔ دُنیا میں تِتّر بِتّر کر دیے گئے ہیں اور ہر جگہ غریب الوطن ہیں۔ کوئی دَور ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ دُنیا کے کسی نہ کسی خطّہ میں ذلّت کے ساتھ پامال نہ کیے جاتے ہوں اور اپنی دولت مندی کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ پھر غضب یہ ہے کہ قومیں پیدا ہوتی اور مِٹتی ہیں مگر اس قوم کو موت بھی نہیں آتی۔ اس کو دنیا میں لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی کی سزا دی گئی ہے تاکہ قیامت تک دُنیا کی قوموں کے لیے ایک زندہ نمونۂ عبرت بنی رہے اور اپنی سرگزشت سے یہ سبق دیتی رہے کہ خداکی کتاب بغل میں رکھ کر خدا کے مقابلہ میں باغیانہ جسارتیں کرنے کا یہ انجام ہوتا ہے۔ رہی آخرت تو اِن شاء اللہ وہاں کا عذاب اس سے بھی زیادہ دردناک ہوگا۔ ( اس موقع پر جو شبہ فلسطین کی اسرائیلی ریاست کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسے رفع کرنے کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ آلِ عمران آیت 112)۔
