An-Nisa' 4:160
Verse 160 of 176
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًا ۟ۙ
ترجمہ
غرض ان یہودی بن جا نے والوں کے اسی ظالمانہ رویّہ کی بنا پر، اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں،
English translation
Thus, We forbade them many clean things which had earlier been made lawful for them, for the wrong-doing of those who became Jews, for their barring many from the way of Allah,
تفہیم القرآن — حواشی
- 198
جملۂ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلۂ تقریر شروع ہوتا ہے جو اُوپر سے چلا آرہا تھا۔
- 199
یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہیں، بلکہ اس قدر بے باک مجرم بن چکے ہیں کہ دُنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو تحریک بھی اُٹھتی ہے ، اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کام کرتا نظر آتا ہے ، اور راہِ حق کی طرف بُلانے کے لیے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اکثر اس کے مقابلہ میں یہودی ہی سب سے بڑھ کر مزاحم بنتے ہیں، درآں حالے کہ یہ کم بخت کتاب اللہ کے حامل اور انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کا تازہ ترین جرم یہ اشتراکی تحریک ہے جسے یہودی دماغ نے اختراع کیااور یہودی رہنمائی ہی نے پروان چڑھایا ہے۔ اِن نام نہاد اہلِ کتاب کے نصیب میں یہ جرم بھی مقدر تھا کہ دُنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جو نظامِ زندگی اور نظامِ حکومت خدا کے صریح انکار پر ، خدا سے کھُلم کھُلا دشمنی پر ، خدا پرستی کو مٹا دینے کے علی الاعلان عزم و ارادہ پر تعمیر کیا گیا اس کے مُوجد و مخترع اور بانی و سربراہ کا ر موسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا ہوں۔ اشتراکیت کے بعد زمانہ ٔ جدید میں گمراہی کا دُوسرا بڑا ستون فرائڈ کا فلسفہ ہے اور لُطف یہ ہے کہ وہ بھی بنی اسرائیل ہی کا ایک فرد ہے۔
