An-Nisa' 4:159
Verse 159 of 176
وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا ۟ۚ
ترجمہ
اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا،
English translation
There are none among the People of the Book but will believe in him before his death, and he will be a witness against them on the Day of Resurrection.
تفہیم القرآن — حواشی
- 196
اِس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں احتمال ہے۔ ایک معنی وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔ دُوسرے یہ کہ”اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہ لے آئے“۔ اہلِ کتاب سے مراد یہودی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ مسیح کی طبعی موت جب واقع ہوگی اس وقت جتنے اہلِ کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر(یعنی ان کی رسالت پر ) ایمان لاچکے ہوں گے۔ دُوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تمام اہلِ کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالتِ مسیح کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لے آتے ہیں، مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ایمان لانا مفید نہیں ہو سکتا۔ دونوں معنی متعدّد صحابہ ، تابعین اور اکابر مفسّرین سے منقول ہیں اور صحیح مراد صرف اللہ ہی کے علم میں ہے۔
- 197
یعنی یہُودیوں اور عیسائیوں نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اور اُس پیغام کے ساتھ، جو آپ لائے تھے ، جو معاملہ کیا ہے اس پر آپ خداوند تعالیٰ کی عدالت میں گواہی دیں گے۔ اس گواہی کی کچھ تفصیل آگے سُورۂ مائدہ کے آخری رکوع میں آنے والی ہے۔
