An-Nisa' 4:153
Verse 153 of 176
یَسْـَٔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤی اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ ۚ وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۟
ترجمہ
یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر اُن پر نازل کراؤ تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰؑ سے کر چکے ہیں۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اسی سر کشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی۔پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا،حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا
English translation
The People of the Book now ask of you to have a Book come down on them from heaven; indeed they asked of Moses even greater things than this, for they said: 'Make us see Allah with our own eyes' - whereupon the thunderbolt suddenly smote them for their wickedness. Then they took to worshipping the calf after clear signs had come to them. Still, We forgave them, and conferred a manifest commandment upon Moses,
تفہیم القرآن — حواشی
- 181
مدینہ کے یہُودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم آپ کی رسالت اس وقت تک تسلیم نہ کریں گے جب تک کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک لکھی لکھائی کتاب آسمان سے نازل نہ ہو، یا ہم میں سے ایک ایک شخص کے نام اوپر سے اس مضمون کی تحریر نہ آجائے کہ یہ محمد ؐ ہمارے رسول ہیں، ان پر ایمان لاؤ۔
- 182
یہاں کسی واقعہ کی تفصیل بیان کرنا مقصُود نہیں ہے ، بلکہ یہُودیوں کے جرائم کی ایک مختصر فہرست پیش کرنی مقصُود ہے ، اُس لیے ان کی قومی تاریخ کے چند نمایاں واقعات کی طرف سرسری اشارات کیے گئے ہیں۔ اس آیت میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سُورۂ بقرہ آیت 55 میں بھی گزر چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو سُورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر 71)
- 183
کھُلی کھُلی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے رسُول مقرر ہونے کے بعد سے لے کر فرعون کے غرق ہونے اور بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے تک پے در پے ان لوگوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں۔ ظاہر ہے کہ سلطنتِ مصر کی عظیم الشان طاقت کے پنجوں سے جس نے بنی اسرائیل کو چھڑایاتھا وہ کوئی گائے کا بچہ نہ تھا بلکہ اللہ ربّ العالمین تھا۔ مگر یہ اس قوم کی طابل پرستی کا کمال تھا کہ خدا کی قدرت اور اس کے فضل کی روشن ترین نشانیوں کا تجربہ اور مشاہدہ کر چکنے کے بعد بھی جب جُھکی تو اپنے محسن خدا کے آگے نہیں بلکہ ایک بچھڑے کی مصنوعی مورت ہی کے آگے جُھکی۔
