Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:143

Verse 143 of 176

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ۖۗ لَاۤ اِلٰی هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰی هٰۤؤُلَآءِ ؕ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا ۟

ترجمہ

کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔

English translation

They dangle between the one and the other (faith and disbelief), and belong neither to these nor to those completely. And he whom Allah lets go astray, for him you can find no way.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 173

    یعنی جس  نے خد اکے کلام اور اس کے رسول کی سیرت سے ہدایت نہ پائی ہو، جس کو سچائی سے منحرف اور باطل پرستی کی طرف راغب دیکھ کر خدا نے بھی  اُسی طرف پھیر دیا ہو جس طرف وہ خود پھرنا چاہتا تھا ، اور جس کی ضلالت طلبی کی وجہ سے خدا نے اس پر ہدایت کے دروازے بند اور صرفف ضلالت ہی کے راستے کھول دیے ہوں ، ایسے شخص کو راہِ راست دکھانا درحقیقت کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس معاملہ کو رزق کی مثال سے سمجھیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق کے تمام خزانے اللہ کے قبضۂ  قدرت میں ہیں۔ جس انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملتاہے۔ مگر اللہ ہر شخص کو رزق اُس راستہ سے دیتا ہے جس راستے سے وہ خود مانگتا ہو۔ اگر کوئی شخص اپنا رزق حلال راستہ سے طلب کر ے اور اُسی کے لیے کوشش بھِ کرے تو اللہ اس کے لیے حلال راستوں کو کھول دیتا ہے اور جتنی اس کی نیت صادق ہوتی ہے اُسی نسبت سے حرام کے راستے اس کے لیے بند کر دیتا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص حرام خوری  پر تُلا ہوا ہوتا ہے اور اسی کے لیے سعی کرتا ہے اس کو خدا کے اذن سے حرام ہی کی روٹی مِلتی ہے اور پھر یہ کسی کے بس  کی بات نہیں کہ اس کے نصیب میں رزق حلال لکھ دے۔ بالکل اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ دُنیا میں فکر و عمل کی تمام راہیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ کوئی شخص  کسی راہ پر بھی اللہ کے اذن اور اس کی توفیق کے بغیر نہیں چل سکتا ۔ رہی یہ بات کہ کس انسان کو کس راہ پر چلنے کا اذن ملتا ہے اور کس راہ کی رہروی کے اسباب اس کے لیے ہموار  کیے جاتے ہیں ، تو اس کا انحصار سراسر آدمی کی اپنی طلب  اور سعی پر ہے۔ اگر وہ خدا سے لگاؤ رکھتا ہے ، سچائی کا طالب ہے، اور خالص نیت سے خدا کے راستے پر چلنے کی سعی کرتا ہے، تو اللہ اسی کا اذن اسی کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے اور اسی  راہ پر چلنے کے اسباب اس کے لیے موافق کر دیتا ہے ۔ بخلاف اس کے جو شخص خود گمراہی کو پسند کرتا ہے اور غلط راستوں ہی پر چلنے کی سعی کرتا ہے ، اللہ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کے دروازےبند ہو جاتے ہیں اوار وہی راہیں اس کے لیے کھول دی جاتی ہیں جن کو اس نے آپ اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ ایسے شخص کو غلط سوچنے ، غلط کام کرنے اور غلط راہوں میں اپنی قوتیں صرف کرنے سے بچا لینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنے نصیب کی راہِ راست جس نے خود کھو دی اور جس سے اللہ نے اس کو محروم کر دیا ، اس کے لیے یہ گم شدہ نعمت کسی کے ڈھونڈے نہیں مِل سکتی۔

An-Nisa' 4:143 — Translation & Tafsir | Read Maududi