An-Nisa' 4:142
Verse 142 of 176
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْۤا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰی ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَلَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا ۟ؗۙ
ترجمہ
یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کود کھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یا د کرتے ہیں۔
English translation
Behold, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is they who are being deluded by Him. When they rise to Prayer, they rise reluctantly, and only to be seen by men. They remember Allah but little.
تفہیم القرآن — حواشی
- 172
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی شخص مسلمانوں کی جماعت میں شمار ہی نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ وہ نماز کا پابند نہ ہو۔ جس طرح تمام دُنیوی جماعتیں اور مجلسیں اپنے اجتماعات میں کسی ممبر کے بلا عُذر شریک نہ ہونے کو اس کی عدم دلچسپی پر محمُول کرتی ہیں اور مسلسل چند اجتماعات سے غیر حاضر رہنے والے پر اسے ممبری سے خارج کر دیتی ہیں ، اسی طرح اسلامی جماعت کے کسی رُکن کا نماز باجماعت سے غیر حاضر رہنا اُس زمانہ میں اِس بات کی صریح دلیل سمجھا جاتا تھا کہ وہ شخص اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ، اور اگر وہ مسلسل چند مرتبہ جماعت سے غیر حاضر رہتا تو یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہے ۔ اس بنا پر سخت سے سخت منافقوں کو بھی اس زمانہ میں پانچوں وقت مسجد کی حاضری ضرور دینی پڑتی تھی، کیونکہ اس کے بغیر وہ مسلمانوں کی جماعت میں شمار کیے ہی نہ جا سکتے تھے۔ البتہ جو چیز ان کو سچے اہلِ ایمان سے ممیز کرتی تھی وہ یہ تھی کہ سچے مومن ذوق و شوق سے آتے تھے ، وقت سے پہلے مسجدوں میں پہنچ جاتے تھے ، نماز سے فارغ ہو کر بھی مسجد وں میں ٹھیرے رہتے تھے ، اور ان کی ایک ایک حرکت سے ظاہر ہوتا تھا کہ نماز سے ان کو حقیقی دلچسپی ہے ۔ بخلاف اس کے اذان کی آواز سُنتے ہی منافق کی جان پر بن جاتی تھی، دل پر جبر کر کے اُٹھتا تھا، اس کے آنے کا انداز صاف غمازی کرتا تھا کہ آ نہیں رہا بلکہ اپنے آپ کو کھینچ کر لا رہا ہے، جماعت ختم ہوتے ہی اس طرح بھاگتا تھا گویا کہ کسی قیدی کو رہائی ملی ہے، اور اس کی تمام حرکات و سکنات سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ شخص خد اکے ذکر سے کوئی رغبت نہیں رکھتا۔
