Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:129

Verse 129 of 176

وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ؕ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟

ترجمہ

بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔ لہذا(قانونِ الہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔ اگر تم اپنا طرزِ عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

English translation

You will not be able to treat your wives with absolute justice not even when you keenly desire to do so. (It suffices in order to follow the Law of Allah that) you incline not wholly to one, leaving the other in suspense. If you act rightly and remain God-fearing, surely Allah is All-Forgiving, All-Compassionate.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 161

    مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دُوسری بدصورت ، ایک جوان ہے اور دُوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دُوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دُوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دُوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں کن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی  کی رغبت کم اور دُوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ  نہیں کرتا  کہ محبت و رغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بے رغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش یا خود اُس کی خواہش کی بنا پر بیوی بنائے رکھتے ہو تو اس سے کم از کم اس حد تک تعلق ضرور رکھو کہ وہ عملاً بے شوہر ہو کر نہ رہ جائے۔ ایسے حالات میں ایک بیوی کی بہ نسبت دُوسری کی طرف میلان زیادہ ہونا تو فطری امر ہے ، لیکن ایسا بھی نہ ہونا چاہیے کہ دُوسری یوں معلّق ہو جائے گو یا کہ اس کا کوئی شوہر نہیں ہے۔                 اس آیت  سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن ایک طرف عدل کی شرط کے ساتھ تعدُّ دِ اواج کی اجازت دیتا ہے اور دوسری طرف عدل کو ناممکن قرار دے کر اس اجازت کو عملاً منسُوخ کر دیتا ہے۔ لیکن درحقیقت ایسا نتیجہ نکالنے کے لیے اس آیت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا گیا ہو تا کہ ”تم عورتوں کے درمیان عدل نہیں کر سکتے“ تو  یہ نتیجہ نکالا جا سکتا تھا ، مگر اس کے بعد ہی جو یہ فرمایا گیا کہ ” لہٰذا ایک بیوی کی طرف بالکل نہ جھک پڑو۔“ اس فقرے نے کوئی موقع اُس مطلب کے لیے باقی نہیں چھوڑا جو مسیحی یورپ کی تقلید کرنے والے حضرات اس سے نکالنا چاہتے ہیں۔

  2. 162

    یعنی اگر حتی الامکان تم قصداً ظلم نہ کرو اور انصاف ہی سے کام لینے کی کوشش کرتے رہو تو فطری مجبُوریوں کی بنا پر جو تھوڑی بہت کوتاہیاں تم سے انصاف کے معاملہ میں صادر ہو ں گی انہیں اللہ معاف فرما دے گا۔

An-Nisa' 4:129 — Translation & Tafsir | Read Maududi