Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nisa' 4:119

Verse 119 of 176

وَّلَاُضِلَّنَّهُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ؕ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا ۟ؕ

ترجمہ

میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں اُلجھادوں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے۔“اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سر پرست بنالیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا

English translation

and shall lead them astray, and shall engross them in vain desires, and I shall command them and they will cut off the ears of the cattle, and I shall command them and they will disfigure Allah's creation.' He who took Satan rather than Allah for his guardian has indeed suffered a man-ifest loss.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 147

    اہلِ عرب کے توہّمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہے۔ ان کے ہاں قاعدہ تھا کہ جب اُونٹنی پانچ یا دس بچے جَن لیتی تو اس کے کان پھاڑ کر اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے تھے۔ اسی طرح جس اُونٹ کے نطفہ سے دس بچے ہو جاتے اُسے بھی دیوتا کے نام پر پُن کر دیا جاتا اور کان چیرنا اس بات کی علامت تھا کہ یہ پُن کیا ہوا جانور ہے۔

  2. 148

    خدائی ساخت میں ردّو بدل کرنے کا مطلب اشیاء کی پیدائشی بناوٹ میں ردّو بدل کرنا نہیں ہے۔ اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے تب تو پوری انسانی تہذیب ہی شیطان کے اغوا کا نتیجہ قرار پائے گی۔ اس لیے کہ تہذیب تو نام ہی ان تصرفات کا ہے جو انسان خدا کی بنائی ہوئی چیزوں میں کرتا ہے ۔ دراصل اس جگہ جس ردّو بدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لیے خدا نے اُسے پیدا نہیں کیا ہے، اور کسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لیے خدا نے اُسے پیدا کیا ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ تمام افعال جو انسان اپنی اور اشیاء کی فطرت کے خلاف کرتا ہے ، اور وہ تمام صورتیں جو وہ منشائے فطرت سے گریز کے لیے اختیار کرتا ہے ، اِس آیت کی رُوسے شیطان کی گمراہ کُن تحریکات کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً عملِ قومِ لوط ، ضبطِ ولادت، رَہبانیت، پرہمچرج، مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنایا، مردوں کو خواجہ سرا بنایا، عورتوں کو ان خدمات سے منحرف کرنا جو فطرت نے ان کے سپرد کی ہیں اور انہیں تمدّن کے اُن شعبوں میں گھسیٹ لانا جن کے لیے مرد  پیدا کیا گیا ہے۔ یہ اور ان طرح کے دُوسرے بے شمار افعال جو شیطان کے شاگرد دنیا میں کر رہے ہیں ، دراصل یہ معنی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ خالقِ کائنات کے ٹھیرائے ہوئے قوانین کو غلط سمجھتے ہیں اور ان میں اصلاح فرمانا چاہتے ہیں۔

An-Nisa' 4:119 — Translation & Tafsir | Read Maududi