Az-Zumar 39:44
Verse 44 of 75
قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۟
ترجمہ
کہو، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو
English translation
Say: “All intercession lies with Allah. His is the dominion of the heavens and the earth. And to Him will all of you be sent back.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 63
یعنی کسی کا یہ زور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود سفارشی بن کر اُٹھ ہی سکے ، کجا کہ اپنی سفارش منوالینے کی طاقت بھی اُس میں ہو۔ یہ بات تو بالکل اللہ کے اختیار میں ہے کہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ اور کس کے حق میں چاہے کسی کو سفارش کرنے دے اور جس کے حق میں چاہے نہ کرنے دے۔ (شفاعت کے اسلامی عقیدے اور مشرکانہ عقیدے کا فرق سمجھنے کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن جلد اوّل، ص 194۔543۔ جلد دوم۔ صفحات 262۔275۔276۔356۔368۔ 449۔ 556۔557۔562۔ جلد سوم، صفحات 126۔127۔155۔156۔252۔ جلد چہارم، السّبا، حاشیہ 40)۔
