Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Az-Zumar 39:21

Verse 21 of 75

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ ۟۠

ترجمہ

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاوٴں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بھُس بنا دیتا ہے۔ درحقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے۔

English translation

Do you not see that Allah sent down water from the sky, then made it flow on earth as springs and streams and rivers and then with it He brings forth vegetation of various hues; then this vegetation ripens and dries up, turning yellow, whereafter He reduces it to broken straw? Surely there is a lesson in this for those endowed with understanding.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 38

    اصل میں لفظ ینا بیع استعمال ہو ا ہے جو کا اطلاق ان تینوں چیزوں پر ہوتا ہے۔

  2. 39

    یعنی اس سے ایک صاحب عقل آدمی یہ سبق لیتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینتیں سب عارضی ہیں۔ ہر بہار انجام خزاں ہے۔ ہر شباب کا انجام ضعیفی اور موت ہے۔ ہر عروج آ کر کار زوال دیکھنے والا ہے۔ لہٰذا یہ دنیا وہ چیز نہیں ہے  جس کے حُسن پر فریفتہ ہو کر آدمی خدا اور آخرت کو بھول جائے اور یہاں کی چند روزہ بہار کے مزے لوٹنے کی خاطر وہ حرکتیں کریں جو اس کی عاقبت برباد کر دیں۔ پھر ایک صاحب عقل آدمی ان مناظر سے یہ سبق بھی لیتا ہے کہ اس دنیا کی بہار اور خزاں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے پروان چڑھاتا ہے اور جسے چاہتا ہے خستہ و خراب کر دیتا ہے۔ نہ کسی کے بس میں یہ ہے کہ اللہ جسے پروان چڑھا رہا ہو اس کو پھلنے پھولنے سے روک دے۔ اور نہ کوئی یہ  طاقت رکھتا ہے کہ جسے اللہ غارت کرنا چاہے اسے وہ خاک میں  ملنے سے بچا لے۔

Az-Zumar 39:21 — Translation & Tafsir | Read Maududi