Al-'Imran 3:75
Verse 75 of 200
وَمِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىِٕمًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ۚ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟
ترجمہ
اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیربھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتےہیں ”اُمّیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے، آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟
English translation
And among the People of the Book there are some who would restore you even if you were to entrust a treasure of gold, and of them there are some whom were you to entrust with one gold piece, will not restore it unless you stand over them. That is because they say: 'We will not be taken to task for whatever we may do to non-Jews (ummls). Thus they falsely fix a lie upon Allah, and do so wittingly.
تفہیم القرآن — حواشی
- 64
یہ محض یہودی عوام ہی کا جاہلانہ خیا ل نہ تھا ، بلکہ اُن کےہاں کی مذہبی تعلیم بھی یہی کچھ تھی، اور ان کے بڑے بڑے مذہبی پیشوا ؤ ں کے فقہی احکام ایسے ہی تھے۔ بائیبل قرض اور سُود کے احکام میں اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کے درمیان صاف تفریق کرتی ہے (استثناء ١5:3۔23:2۰)۔ تَلموُد میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں، مگر غیر اسرائیلی کا بیل اگر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کر ے تو اس پر تاوان ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی جگہ کوئی گِری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ گردو پیش آبادی کن لوگوں کی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے اعلان کرنا چاہیے ، غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلا اعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیے۔ ربّی اشماعیل کہتا ہے کہ اگر اُمّی اور اسرائیلی کا مقدمہ قاضی کےپاس آئے تو قاضی اگر اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جِتوا سکتا ہو تو اس کے مطابق جِتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے۔ اور اگر اُمّیوں کے قانون کے تحت جِتوا سکتا ہو تو اُس کے تحت جِتوائے اور کہے کہ یہ تمہارا قانون ہے۔ اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کامیاب کر سکتا ہو کرے۔ ربّی شموایل کہتا ہے کہ غیر اسرائیلی کی ہر غلطی سے فائدہ اُٹھانا چاہیے (تالمودِک مِسّلینی، پال آئزک ہرشون، لندن ١88۰ء ، صفحات 37۔2١۰۔22١)۔
