Al-'Imran 3:73
Verse 73 of 200
وَلَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰی هُدَی اللّٰهِ ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤی اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟ۚۙ
ترجمہ
نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبی! ان سے کہہ دو کہ”اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجّت مل جائے“۔ اے نبیؐ ! ان سے کہو کہ ”فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے ، جسے چاہے عطا فرمائے۔ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے،
English translation
They also say among themselves: 'Do not follow anyone except him who follows your faith.' Say: 'Surely true guidance is Allah's. It is His favour that anyone should be given the like of what you have been given in the past, and that others should have been given firm evidence to proffer against you before your Lord.' Say: 'Surely bounty is in the Hand of Allah; He gives it to whom He wills. Allah is All-Embracing, All-Knowing.
تفہیم القرآن — حواشی
- 62
اصل میں لفظ”واسِع“ استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اُسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے ۔ دُوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بُخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے ۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیّل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدُود یّت منسُوب کرتے ہیں اور انھیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدُود ہے۔(ملاحظہ ہو سُورہٴ بقرہ، حاشیہ نمبر 11۶ )
- 63
یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کون فضل و شرف کا مستحق ہے۔
