Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-'Imran 3:64

Verse 64 of 200

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۟

ترجمہ

کہو،”اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے“۔۔۔۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو۔ ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے )ہیں

English translation

Say: 'People of the Book! Come to a word common between us and you: that we shall serve none but Allah and shall associate none with Him in His divinity and that some of us will not take others as lords beside Allah.' And if they turn their backs (from accepting this call), tell them: 'Bear witness that we are the ones who have submitted ourselves exclusively to Allah.'

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 56

    یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے  سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگِ بدر اور جنگِ اُحد کے درمیانی دَور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سُورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربطِ کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اسی بنا پر بعض مفسّرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفدِ نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتا رہا ہے کہ اس کے مخاطب یہُودی ہیں۔

  2. 57

    یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کر لو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار نہیں کر سکتے۔ تمہارے اپنے انبیا سے یہی عقیدہ منقول ہے۔ تمہاری اپنی کتب مقدسہ میں اس کی تعلیم موجود ہے۔

Al-'Imran 3:64 — Translation & Tafsir | Read Maududi