Al-'Imran 3:35
Verse 35 of 200
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟
ترجمہ
(وہ اس وقت سُن رہا تھا)جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ ”میرے پر ور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبو ل فرما۔ تُو سننے اور جاننے والاہے“۔
English translation
. (He also heard) when the woman of 'Imran said: 'O Lord! Behold, unto You do I vow that the child in my womb is to be devoted to Your exclusive service. Accept it, then, from me. Surely You alone are All-Hearing, All-Knowing.'
تفہیم القرآن — حواشی
- 32
اگر عمران کی عورت سے مراد”عمران کی بیوی“ لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ عمران نہیں ہیں جن کا ذکر اُوپر ہوا ہے ، بلکہ یہ حضرت مریم کے والد تھے، جن کا نام شاید عمران ہوگا۔ ( مسیحی روایات میں حضرت مریم کے والد کا نام یو آخیم Ioachim لکھا ہے) اور اگر عمران کی عورت سے مراد آلِ عمران لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضرت مریم کی والدہ اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں ۔ لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ ٴ معلومات نہیں ہے جس سے ہم قطعی طور پر ان دونوں معنوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے سکیں، کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت مریم کے والد کون تھے اور ان کی والدہ کس قبیلے کی تھیں۔ البتہ اگر یہ روایت صحیح مانی جائے کہ حضرت یحییٰ ؑ کی والدہ اور حضرت مریم کی والدہ آپس میں رشتہ کی بہنیں تھیں تو پھر ”عمران کی عورت“ کے معنی قبیلہٴ عمران کی عورت ہی درست ہوں گے ، کیونکہ انجیل لوقا میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے کہ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد سے تھیں (لوقا5:١)۔
- 33
یعنی تُو اپنے بندوں کی دعائیں سُنتا ہے اور ان کی نیتوں کے حال سے واقف ہے۔
