Al-'Imran 3:183
Verse 183 of 200
اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟
ترجمہ
جو لوگ کہتے ہیں”اللہ نےہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے(غیب سے آکر) آگ کھا لے“، ان سے کہو ”تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتےہو ، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟“
English translation
To those who say: 'Allah has directed us that we accept none as Messenger until he makes an offering that the fire will consume', say: 'Other Messengers came to you before me with clear signs, and with the sign you have mentioned. So why did you slay them, if what you say is true?
تفہیم القرآن — حواشی
- 129
بائیبل میں متعدّد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے بھسم کر دیتی تھی (قضاة 6: 2۰۔2١ و ١3: ١9۔2۰)۔ نیز یہ ذکر بھی بائیبل میں آتا ہے کہ بعض مواقع پر کوئی نبی سو ختنی قربانی کرتا تھا اور ایک غیبی آگ آکر اسے کھالیتی تھی(احبار ۔9 : 24۔2۔تواریخ۔7 : ١۔2) ۔ لیکن یہ کسی جگہ بھی نہیں لکھا کہ اس طرح کی قربانی نبوّت کی کوئی ضروری علامت ہے، یا یہ کہ جس شخص کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانا تھا جو یہودیوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا انکار کرنے کے لیے نصنیف کر لیا تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کی حق دشمنی کا ثبوت یہ تھا کہ خود انبیاء ِ بنی اسرائیل میں سے بعض نبی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے آتشیں قربانی کا یہ معجزہ پیش کیا اور پھر بھی یہ جرائم پیشہ لوگ ان کے قتل سے باز نہ رہے۔ مثال کے طور پر بائیبل میں حضرت الیاس ؑ (ایلیاہ تِشبی) کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے بَعل کے پجاریوں کو چیلنج دیا کہ مجمعِ عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں۔ جس کی قربانی کو غیبی آگ کھالے وہی حق پر ہے۔ چنانچہ ایک خلقِ کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس ؑ کی قربانی کھائی۔ لیکن اس کا جو کچھ نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی بعل پرست ملکہ حضرت الیاس ؑ کی دشمن ہو گئی، اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے قتل کے درپے ہوا اور ان کو مجبوراً ملک سے نِکل کر جزیرہ نما ئے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی( ١۔سلاطین۔باب ١8 و ١9)۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا ہے کہ حق کے دُشمنو! تم کس منہ سے آتشیں قربانی کا معجزہ مانگتے ہو ؟ جن پیغمبروں نے یہ معجزہ دکھایا تھا انہی کے قتل سے تم کب باز رہے۔
