Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-'Imran 3:13

Verse 13 of 200

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰی كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ؕ وَاللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ۟

ترجمہ

تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو ( بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو ئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دُوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے۔ مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے، مدد کر دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔

English translation

You have already come across an instructive sign in the two hosts that encountered each other in battle (at Badr): one host fighting in the way of Allah, and the other that of unbelievers. They saw with their own eyes that one host was twice the number of the other. But (the result of the battle has proved that) Allah succours with His victory whomsoever He wills. In this there is surely a lesson for all who have eyes to see.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 9

    اگر چہ حقیقی فرق سہ چند تھا ، لیکن سرسری نگاہ سے دیکھنے والا بھی یہ محسُوس کیے بغیر تو نہیں رہ سکتا تھا کہ کفار کا لشکر مسلمانوں سے دو گنا ہے۔

  2. 10

    جنگِ بدر کا واقعہ اُس وقت قریبی زمانے ہی میں پیش آچکا تھا، اس لیے اس کے مشاہدات و نتائج کی طرف اشارہ کر کے لوگوں کو عبرت دلائی گئی ہے۔ اس جنگ میں تین باتیں نہایت سبق آموز تھیں: ایک یہ کہ مسلمان اور کفار جس  شان سے ایک دُوسرے کے بالمقابل آئے تھے، اس سے دونوں کا اخلاقی فرق صاف ظاہر ہو  رہا تھا۔ ایک طرف کافروں کے لشکر میں شرابوں کے دَور چل رہے تھے، ناچنے اور گانے والی لونڈیاں ساتھ آئی تھیں اور خوب دادِ عیش دی  جارہی تھی۔ دُوسری طرف مسلمانوں کے لشکر میں پرہیز گاری تھی، خدا ترسی تھی، انتہا درجہ کا اخلاقی انضباط تھا، نمازیں تھیں اور روزے تھے ، بات بات پر خدا کا نام تھا اور خدا ہی کے آگے دُعائیں اور التجائیں کی جارہی تھیں۔ دونوں لشکر وں کو دیکھ کر ہر شخص بآسانی معلوم کر سکتا تھا کہ دونوں میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑ رہا ہے۔ دُوسرے یہ کہ مسلمان اپنی قلتِ تعداد اور بے سرو سامانی کے باوجود کفار کی کثیر التعداد اور بہتر اسلحہ رکھنے والی فوج کے مقابلے میں جس طرح کامیاب ہوئے، اس سے صاف معلوم  ہو گیا تھا کہ ان کو  اللہ کی تائید حاصل تھی۔ تیسرے یہ کہ اللہ کی غالب طاقت سے غافل ہو کر جولوگ اپنے سروسامان اور اپنے حامیوں کی کثرت پر پھُولے ہوئے تھے ، ان کے لیے یہ واقعہ ایک تازیانہ تھا کہ اللہ کس طرح چند مُفلس و قَلّانچ غریب الوطن مہاجروں اور مدینے کے کاشتکاروں کی ایک مُٹھی بھر جماعت کے ذریعے سے قریش جیسے قبیلے کو شکست دلوا سکتا ہے، جو تمام عرب کا سرتاج تھا۔

Al-'Imran 3:13 — Translation & Tafsir | Read Maududi